اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آئینی تقاضے پورے کرنے کے بعد اختر مینگل سے براہِ راست تصدیق کی، جس کے بعد ان کا استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کیا گیا۔ اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق سردار اختر مینگل این اے 256 خضدار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ استعفیٰ 3 ستمبر 2024 سے مؤثر تصور کیا جائے گا جس کے بعد مذکورہ نشست خالی قرار دے دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ریاست پوری قوت سے دہشت گردوں کو جواب دے گی، وزیرِاعلیٰ بلوچستان

رپورٹس کے مطابق استعفیٰ کی منظوری کے بعد 3 ستمبر 2024 کے بعد سے حاصل کی گئی تنخواہیں اور دیگر مراعات قواعد کے مطابق واپس لی جائیں گی۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اختر مینگل کے استعفے کی منظوری سے قومی اسمبلی میں عددی صورتحال پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جبکہ خالی ہونے والی نشست پر آئندہ ضمنی انتخاب الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ سردار اختر مینگل بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم کردار کے حامل ہیں اور ان کی جماعت صوبے میں قوم پرست سیاست کی نمائندگی کرتی ہے۔