سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں قاسم خان نے کہا کہ عمران خان کی صحت میں یہ بگاڑ 922 روزہ تنہائی قید، طبی معائنے میں غفلت اور جیل میں مناسب علاج کی عدم فراہمی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خون کے ضروری ٹیسٹ تک نہیں کروائے گئے اور طبی سہولیات جان بوجھ کر فراہم نہیں کی گئیں۔

قاسم خان نے الزام عائد کیا کہ اس صورتحال کی ذمہ داری موجودہ حکومت اور ان افراد پر عائد ہوتی ہے جو اس عمل کو ممکن بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد کو تنہائی میں رکھنے کے لیے نظامِ انصاف کو بھی استعمال کیا گیا اور قانونی عمل کو متاثر کیا گیا۔

قاسم خان نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی کو اپنے والد سے ملاقات کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جا رہے، حالانکہ عمران خان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ تاریخ اس ناانصافی کو ریکارڈ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 20 سال میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا گزشتہ دو سالوں میں ہوا ہے، مریم نواز

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی اداروں اور جمہوری ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور مبینہ زیادتیوں کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کردار ادا کریں۔

واضح رہے کہ عمران خان اس وقت جیل میں قید ہیں اور ان کی صحت سے متعلق بیانات اور دعوؤں پر حکومتی سطح پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔