برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اس فیصلے سے بیرونِ ملک مقیم کئی شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اچانک نافذ کیے گئے قوانین کے باعث وہ برطانیہ واپسی میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

نئے بارڈر کنٹرول قواعد کے تحت 25 فروری کے بعد برطانیہ آنے والے ہر فرد کے لیے سفری اجازت لازمی ہوگی، سوائے برطانوی یا آئرش شہریوں اور مستثنیٰ افراد کے۔ مختصر قیام کے مسافروں کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن درکار ہوگی، جس کی فیس 16 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے۔

تاہم دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے اب لازم ہوگا کہ وہ سفر کے وقت برطانوی پاسپورٹ پیش کریں۔ اگر وہ دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرنا چاہیں تو انہیں 589 پاؤنڈ کا سرٹیفیکیٹ آف انٹائٹلمنٹ حاصل کرنا ہوگا، جسے بعض افراد غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔

جرمنی میں مقیم ایک برطانوی خاتون نے کہا کہ ان کے بچوں کے لیے یہ فیصلہ پریشان کن ہے، کیونکہ کم وقت میں قواعد کی تبدیلی اور دو پاسپورٹس بنوانے کا خرچ خاندانوں پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔

سپین میں مقیم ایک برطانوی خاتون نے بتایا کہ بریگزٹ کے بعد ہسپانوی شہریت اختیار کرنے کے باعث اب اگر وہ برطانوی پاسپورٹ استعمال کریں گی تو ان کی موجودہ شہریت متاثر ہو سکتی ہے۔

ایک برطانوی اطالوی شہری نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ وہ 25 فروری کے بعد کاروباری دورے سے واپسی پر برطانیہ داخل نہیں ہو سکیں گے کیونکہ ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے۔

ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ڈیجیٹل بارڈر سسٹم کا حصہ ہے، جس کا مقصد زیادہ محفوظ اور مؤثر سفری نظام قائم کرنا ہے۔

یورپی شہریوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم The3Million نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگے سرٹیفیکیٹ کے بجائے کم لاگت متبادل متعارف کرایا جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔