حیدرآباد میں بنو قابل انٹری ٹیسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں جنرل یونیورسٹی کا نہ ہونا باعثِ شرم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن حکمرانوں نے انہیں مسلسل نظر انداز کیا۔ معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان واضح تفریق پیدا کر دی گئی ہے، دونوں کے لیے الگ الگ نظام موجود ہے۔ تعلیم ہو یا کھیل کا میدان، ہر چیز کے لیے پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بدقسمتی سے سندھی اور مہاجر کو لڑانے والے ہی برسوں سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ہم سب مل کر اس مافیا کا مقابلہ کریں گے اور انہیں اقتدار سے بے دخل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پنجاب پولیس کو پلان دے دیا: ’اب صرف ایکشن ہوگا‘

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 15 سال تک کی عمر کے تقریباً تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، مگر ان کے بارے میں کوئی سنجیدگی سے نہیں سوچ رہا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کو منشیات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی بلکہ انہیں تعلیم اور تربیت فراہم کرے گی۔ نوجوان جتنا پڑھنا چاہیں، انہیں مفت تعلیم دی جائے گی۔ آئی ٹی سمیت پلمبنگ، سولر پینل ٹیکنالوجی اور دیگر ووکیشنل کورسز بھی بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں گے۔