لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے پی ٹی آئی قیادت سے کہا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے کسی ذاتی اور غیر سیاسی ماہرِ چشم کا نام دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل پر کسی کو اعتراض نہ ہو،حکومت نے نہ صرف ماہر ڈاکٹر کی سہولت فراہم کی بلکہ خاندان کے نمائندے کو بھی معائنے کے وقت موجود رہنے کی اجازت دی۔

ان  کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ایک غیر سیاسی آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے، معائنے کے بعد عمران خان تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے اور ڈاکٹروں نے تسلی بخش رپورٹ دی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ اسپتال میں داخلے کا فیصلہ صرف ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا دو ہفتے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے اور مقصد صرف طبی سہولت کی فراہمی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی ایک خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی،حکومت سنجیدہ مذاکرات اور مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان آخری لائن نہیں پڑھ سکتے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں، اس عمر میں ہم بھی نہیں پڑھ سکتے: شیر افضل مروت

انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور گوہر علی خان کو بھی ملاقات کی دعوت دی گئی۔ بعد ازاں اپوزیشن رہنماؤں نے اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی، جس دوران ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ شیئر کی گئی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بعض اینکرز کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ عمران خان کی آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے، جو حقیقت کے برعکس ہے،معالجین نے خود تسلیم کیا کہ بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، اس کے باوجود منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں تمام فریقین متفق ہو جاتے ہیں لیکن بعد میں اعتراض سامنے آ جاتا ہے،اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی بحران پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت زیر غور نہیں۔ قومی مفاد کے معاملات پر مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں بدامنی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالتوں کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے بقول فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

وزیر داخلہ نے دہشتگردی کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی برادری حقائق کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی صحت اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں حکومتی بیانات آئندہ دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو متاثر کر سکتے ہیں، تاہم حکومتی حلقے اسے محض طبی معاملہ قرار دے رہے ہیں جسے غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔