وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کے مطابق رواں برس وفاقی رمضان پیکج کا حجم 38 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
امداد کی تقسیم شفاف برقی نظام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے براہِ راست بینک کھاتوں میں کی جائے گی۔ گزشتہ سال فی خاندان 5 ہزار روپے دیے گئے تھے، جس میں اس سال نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت 49 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دی گئی۔ اس کے تحت 42 لاکھ خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ہر تحصیل میں مفت افطار دسترخوان بھی قائم کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر خصوصی پیکج منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت 10 لاکھ 63 ہزار خاندانوں کو اوسطاً 12 ہزار 500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس رقم میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
Alhamdulillah 🤍
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 14, 2026
The delivery of Negahban ATM Cards under Punjab’s historic Ramzan Package has officially begun, a moment that brought tears of gratitude and reminded me why public service is a sacred responsibility.
This Rs. 40 billion initiative will support 4 million… pic.twitter.com/DKb8leMY4o
سندھ میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے 25 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو نقد امداد کے ساتھ رعایتی آٹا، چینی اور دالیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ امداد کی تقسیم سرکاری مراکز کے ذریعے کی جائے گی۔
بلوچستان حکومت نے نقد رقم کے بجائے مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ مستحقین کی نشاندہی کر کے انہیں اشیائے ضروریہ فراہم کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد رمضان المبارک میں مستحق طبقات کو باعزت سہولت فراہم کرنا اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔







