یہ اجلاس یواین سکیورٹی کونسل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت برطانیہ کی وزیرِ خارجہ نے سلامتی کونسل کی صدر کی حیثیت سے کی۔

اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم ایک نازک مرحلے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے، انسانی بحران کم کرنے اور جامع منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جس کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی ہے، جب کہ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں الحاق کی کوششیں امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کو  انتہائی تشویشناک  قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین کو نام نہاد  ریاستی زمین  قرار دینا، نئی آبادکار بستیاں قائم کرنا اور قانونی و انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنا بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خصوصاً قرارداد 2334 اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کے بھی منافی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باعث ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، اقوامِ متحدہ کی عمارتوں اور بالخصوص UNRWA کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں قرارداد 2803 پر مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد ناگزیر ہے۔

وزیرِ خارجہ نے مستقل جنگ بندی، بلا تعطل اور وسیع پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت میں کسی قسم کی تبدیلی، جبری بے دخلی یا الحاق قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ضرورت پڑی تو افغانستان میں فضائی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے، خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی آبادکار سرگرمیاں، آبادکاروں کا تشدد اور مقبوضہ علاقوں کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان، آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں میں سرگرم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی مقصد کے تحت پاکستان نے قرارداد 2803 کے تحت بورڈ آف پیس (بی او پی) میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے ایک قابلِ اعتماد، ناقابلِ واپسی اور وقت کے تعین پر مبنی سیاسی عمل کا آغاز ہوگا، جس کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد، خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ فلسطینی قیادت میں حکمرانی اور ادارہ جاتی مضبوطی، خصوصاً فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار، ناگزیر ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان تمام سفارتی اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ، بورڈ آف پیس، مسئلۂ فلسطین کے پُرامن حل سے متعلق اعلیٰ سطحی کانفرنس اور دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد شامل ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پائیدار امن انصاف کے بغیر ممکن نہیں، استحکام احتساب کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور کوئی بھی دیرپا حل فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور ان کی جائز جدوجہدِ آزادی، وقار اور خودمختاری کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔