ایکس پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طرف ملکی قرضہ آسمان چھو رہا ہے اور دوسری طرف غربت کا گراف ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، جو حکمران اتحاد کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سال کے دوران آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت اربوں ڈالر قرض حاصل کیے گئے، لیکن اس کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کھربوں روپے غریبوں میں تقسیم کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق کے مطابق یہ عمل عملاً ناکام رہا اور فراڈ کے الزامات سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: رمضان المبارک میں وفاقی و صوبائی حکومتیں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

انہوں  نے صوبائی سطح پر بھی غربت میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعتوں کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی حقیقی منصوبہ موجود نہیں ہے، یہ پارٹیاں صرف اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کی پالیسیاں اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے تک محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران طبقے کی پرتعیش زندگی اور غیر ضروری اخراجات جیسے 11 ارب روپے کے طیارے خریدنے کے منصوبے، عوامی مشکلات کے پیش نظر قابل مذمت ہیں۔ عوام غربت اور مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں، لیکن سیاسی قیادت اپنی پرتعیش زندگی کے لیے وسائل خرچ کر رہی ہے۔