امریکی محکمہ تجارت کے مطابق اکتوبر سے دسمبر تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی سالانہ شرح 1.4 فیصد رہی، جو تیسری سہ ماہی میں ریکارڈ کیے گئے 4.4 فیصد کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔ ماہرین کی پیشگوئی 1.9 فیصد تھی، تاہم اصل اعداد و شمار اس سے بھی کم رہے۔

عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پورے سال 2025 میں امریکی معیشت کی مجموعی شرح نمو 2.2 فیصد رہی، جو 2020 کے بعد سب سے کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ بہار میں متعارف کرائے گئے وسیع ٹیرف، امیگریشن پر سخت پابندیاں اور روزگار کی سست رفتار نے معیشت پر دباؤ ڈالا، تاہم خوشحال طبقے کے مسلسل اخراجات نے معیشت کو بدترین صورتحال سے بچائے رکھا۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی اخراجات میں کمی اور صارفین کی جانب سے اشیائے صرف کی خریداری میں کمی نے چوتھی سہ ماہی کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

صارفین کے اخراجات، جو امریکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، چوتھی سہ ماہی میں کم ہو کر 1.4 فیصد کی سالانہ شرح پر آگئے، جو سال کے آغاز کے بعد کم ترین سطح ہے۔

کم آمدنی والے گھرانوں پر بڑھتے قرضوں، سست لیبر مارکیٹ اور گزشتہ برسوں کی مہنگائی کے اثرات واضح نظر آئے۔ دوسری جانب کاروباری سرمایہ کاری میں معمولی اضافہ ہوا اور یہ شرح 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

محکمہ تجارت کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق دسمبر میں صارفین کے اخراجات میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی اضافہ صرف 0.1 فیصد رہا۔


ذاتی آمدنی میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مہنگائی کے اثرات شامل کرنے کے بعد یہ اضافہ تقریباً ختم ہو گیا۔ بعد از ٹیکس آمدنی کے مقابلے میں بچت کی شرح کم ہو کر 3.6 فیصد رہ گئی، جو اکتوبر 2022 کے بعد کم ترین سطح ہے۔

ادھر فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ مہنگائی پیمائش 2.9 فیصد تک پہنچ گئی، جو تقریباً دو برس کی بلند ترین سطح ہے اور مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے خاصی زیادہ ہے۔ بنیادی مہنگائی (کور پی سی ای) بھی بڑھ کر سالانہ بنیاد پر 3 فیصد تک جا پہنچی۔

ولف ریسرچ کی چیف اکانومسٹ اسٹیفنی روتھ کے مطابق موجودہ حالات کے تناظر میں 2025 کی شرح نمو کو نسبتاً متوازن قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیبر سپلائی میں کمی کے باوجود معیشت کی مثبت شرح نمو کو ’گولڈی لاکس‘ صورتحال کہا جا سکتا ہے یعنی نہ بہت زیادہ گرم اور نہ ہی بہت سرد۔


ماہرین کا خیال ہے کہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 0.25 سے 1.5 فیصد تک کمی واقع ہوئی، تاہم توقع ہے کہ رواں سہ ماہی میں ان نقصانات کا بڑا حصہ پورا ہو جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مہینوں میں مہنگائی، شرح سود اور تجارتی پالیسیوں کے اثرات امریکی معیشت کی سمت کا تعین کریں گے۔