برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی ممالک اور اسرائیل، جو طویل عرصے سے ایران کو بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں، اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات کم اور تصادم کے خطرات زیادہ ہو گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں 2003 کی عراق جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تیاریوں میں سے ایک کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت بھی امریکہ کے ساتھ ممکنہ مشترکہ کارروائی پر غور کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران یہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوسری ممکنہ کارروائی ہوگی۔ اس سے قبل جون میں ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ فضائی حملے کیے گئے تھے۔

خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک ممکنہ بگڑتی صورتحال کے پیش نظر تیاریوں میں مصروف ہیں، کیونکہ کسی بھی محدود نوعیت کی جھڑپ کے پورے خطے میں پھیلنے اور عدم استحکام پیدا کرنے کا خدشہ ہے۔ دو اسرائیلی عہدیداروں نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات اس حد تک گہرے ہو چکے ہیں کہ فوری حل کی گنجائش کم رہ گئی ہے اور قریبی مدت میں فوجی کشیدگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

بعض علاقائی مبصرین کے مطابق ایران امریکی دباؤ کو کم تر سمجھ کر غلط اندازہ لگا رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ سابق امریکی سفارتکار ایلن آئر کے مطابق دونوں فریق اپنی اپنی سرخ لکیروں پر قائم ہیں اور فی الحال کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آتے۔

دو ادوار پر مشتمل مذاکرات یورینیم افزودگی، میزائل پروگرام اور پابندیوں میں نرمی جیسے بنیادی نکات پر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ عمانی ثالثوں کے ذریعے بھیجی گئی امریکی تجاویز کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کھولنے سے بھی گریز کیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے طاقت کے استعمال سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے محدود حملے کا آپشن زیر غور ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ معاہدے میں تاخیر کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔