امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سٹیو وٹکوف، جو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے ہیں، نے کہا کہ وہ مایوس کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ صدر کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، تاہم وہ اس بات پر حیران ہیں کہ ایران نے ابھی تک امریکی مطالبات کیوں نہیں مانے۔

ان کے بقول صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے سوال کیا کہ خطے میں امریکی بحری قوت کی موجودگی اور دباؤ کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور واضح طور پر یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔

سٹیو وٹکوف نے بتایا کہ مذاکرات سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کے داماد و سینیئر مشیر جیرڈ کشنر نے انہیں چند اہم ہدایات دی تھیں، جن میں یورینیئم کی افزودگی روکنے اور پہلے سے افزودہ مواد کو واپس کرنے پر زور شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اگرچہ سویلین جوہری پروگرام کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس نے یورینیئم کو شہری ضروریات سے کہیں زیادہ سطح تک افزودہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران بم بنانے کے لیے درکار صنعتی سطح تک پہنچنے سے شاید ایک ہفتے کی دوری پر ہے، جو انتہائی تشویشناک بات ہے اور امریکا اسے قبول نہیں کر سکتا۔

وٹکوف نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی درخواست پر ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی سے ملاقات کی۔ ان کے بقول یہ ایک کھلا اور عوامی معاملہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ رضا پہلوی اپنے ملک کے لیے مضبوط انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے دوران ایران نے یورینیئم کی افزودگی روکنے کی کوئی تجویز پیش نہیں کی اور نہ ہی امریکا نے صفر افزودگی کا باضابطہ مطالبہ کیا۔

عباس عراقچی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی، جس میں مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے اور دیرپا مفاہمت کے لیے تعمیری مکالمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ رافیل گروسی نے جنیوا مذاکرات کو ’ایک قدم آگے‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وقت محدود ہے۔