امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرات سے آگاہ کیا،جنرل کین نے خبردار کیا تھا کہ ایسی کارروائی امریکا کو ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں الجھا سکتی ہے جس کے نتیجے میں امریکی افواج کو جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بریفنگ کے دوران خطے میں اتحادیوں کی محدود حمایت اور بعض اہم اسلحہ کی کمی جیسے عوامل پر بھی بات کی گئی،امریکی میزائل دفاعی نظام اور اسلحہ کے ذخائر پہلے ہی اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، جس سے کسی نئی مہم کی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔
ادھر آن لائن خبر رساں ادارے ایکسئس نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق صدر کو بریفنگ دینے والے واحد سینئر فوجی عہدیدار جنرل کین تھے، جبکہ امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر جنوری کے بعد کسی اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا
تاہم صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل کین نے کبھی بھی ایران پر کارروائی کی مخالفت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ صرف جیتنا جانتے ہیں، اور اگر انہیں حکم دیا گیا تو وہ قیادت کریں گے۔‘‘ صدر نے میڈیا رپورٹس کو ’جعلی خبریں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم تہران نے اپنے جوہری پروگرام اور دیگر حساس معاملات پر امریکا کے بعض مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ دونوں آپشنز زیر بحث ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کسی قسم کی عسکری پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں امریکی قیادت اور عسکری حکام کے درمیان ہم آہنگی اور حکمت عملی کی وضاحت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔







