سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں سرحد کے متعدد مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز مؤثر کارروائی کر رہی ہیں۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان کو سخت جواب دیا گیا اور انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

ابتدائی اطلاعات میں افغان جانب جانی نقصان اور متعدد چوکیوں و عسکری آلات کی تباہی کی خبر دی گئی۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر بلااشتعال کارروائیوں کے بعد پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے طیاروں نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو تباہ کر دیا، جب کہ تین افغان بٹالین اور ایک سیکٹر ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا  غلط اندازہ ، سرحد پر بلااشتعال کارروائی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے: پاکستان

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ اور تیراہ خیبر میں بھرپور کارروائی کی گئی۔ چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ مہمند کے گرسال سیکٹر میں بھی پاک فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد چیک پوسٹیں تباہ کیں اور مزید تین طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔

ذرائع کے مطابق باجوڑ میں بھی افغان طالبان کی دو چوکیاں تباہ کی گئیں، جب کہ کرم سیکٹر کے قریب کئی ٹھکانے نشانہ بنائے گئے جہاں مزید آٹھ جنگجو ہلاک ہوئے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے خلاف جوابی کاروائی کے دوران طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ ان کی 16 پوسٹیں تباہ اور سات پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

مزید برآں ایک ایمونیشن ڈپو، ایک بٹالین ہیڈکوارٹر اور ایک سیکٹر ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جب کہ 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) ناکارہ بنا دی گئیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز مار گرائے گئے۔ فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے مؤثر جوابی فائرنگ جاری ہے، جب کہ ڈرونز کے ذریعے بھی افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کسی بھی پاکستانی چوکی پر نہ تو قبضہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا ہے، مشرف زیدی

سیکیورٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوؤں اور جعلی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحدی دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا سخت اور فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس سے قبل وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاک افغان سرحد پر کشیدگی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی کو پاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس حوالے سے کہا کہ جنگ کا آغاز افغانستان نے کیا ہے، لیکن اس کا اختتام پاکستان کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان پر حملے کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو بھی سوچنا ہوگا کیونکہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ اگر افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے تو پاکستان خود ایکشن لے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی جارحیت کی صورت میں افغانستان کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاک افغان سرحد پر خوارج کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خوارج، ان کے ہینڈلرز اور معاونین پہلے بھی ذلیل ہوئے اور آئندہ بھی ذلیل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلام ہے پاک فوج کو جس نے پلک جھپکتے ہی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔

یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار، وزیر اعظم

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مٹی کا ایک ایک ذرہ بنیان مرصوص بن کر لڑے گا اور پاکستان کی جغرافیائی حدود ہماری ریڈ لائن ہیں، جنہیں عبور کرنے والا ذلیل و رسوا ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی پاک ا فغان سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔

انہوں نے پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز کی ایک ایک انچ زمین کا دفاع ہمارا قومی فریضہ ہے اور سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی سے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔