مائی کولاچی روڈ پر امریکی قونصلیٹ کے قریب ہنگامہ آرائی اور ایم ٹی خان روڈ پر مظاہرین کے پتھراؤ کے بعد پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی۔ سلطان آباد پُل کے نیچے ٹریفک پولیس چوکی کو بھی آگ لگا دی گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ٹریفک پولیس نے مختلف راستوں کو بند کر دیا ہے تاکہ مظاہرین کے ہنگامہ آرائی والے علاقوں میں ٹریفک متاثر نہ ہو۔ جناح برج سے آنے والی ٹریفک کو آئی آئی چندریگر روڈ کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ بوٹ بیسن سے آنے والی گاڑیوں کو مائی کولاچی پھاٹک سے یوٹرن کرایا جا رہا ہے۔ پی آئی ڈی سی سے آنے والی گاڑیوں کو پارک کٹ سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: ایرانی سرکاری میڈیا
مولوی تمیز الدین روڈ، کسٹم ہاؤس کے سامنے نیٹی جیٹی پل، اور سلطان آباد سے مائی کولاچی کی جانب جانے والی سڑکیں بھی احتجاج کی وجہ سے بند کی گئی ہیں۔ شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں، مظاہرین کی اس کارروائی کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کون ہوگا، جس پر عوام میں شدید تجسس اور تشویش پائی جا رہی ہے۔
یہ مظاہرہ اور ہنگامہ آرائی شہر میں موجود سیاسی و بین الاقوامی تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، اور شہریوں کے لیے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ نے محتاط اقدامات کیے ہیں تاکہ صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔







