ایران سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت پر  ایران  میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اسرائیلی و امریکی حملوں میں سپریم لیڈر خامنہ ای کی بیٹی اورنواسے کی شہادت کی بھی تصدیق کردی۔  ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کے داماد اور بہو  بھی شہید ہوگئیں۔

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بینکر میں تھے، آیت اللہ علی خامنہ ای کےکمپاؤنڈپر 30 بم گرائےگئے۔ ایرانی سپریم لیڈر درجنوں ساتھیوں سمیت مارے گئے۔

اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی۔

ادھر بر طانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ خامنہ ای کی لا ش ملی ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو  نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ  ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈربھی مارے گئے ہیں، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ اورسینئر جوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوئی جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری شہید اور 747 زخمی ہوئے تھے۔

خبر ایجنسی کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہوگئے ہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟

آیت اللہ علی خامنہ ای 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے رہبرِ اعلیٰ بننے والے دوسرے شخص ہیں۔ وہ 1989 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ بہت سے نوجوان ایرانیوں نے ہمیشہ سے انھیں ہی اس کردار میں دیکھا ہے۔

وہ ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے ۔ بطور رہبرِ اعلیٰ، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار بھی تھا  کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر چن سکتے ۔

ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے ۔

آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں ہیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے والد ایک  شیعہ عالم تھے۔

انھوں نے بچپن میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 11 برس کی عمر میں وہ ایک عالم کے طور پر اہل ہو گئے تھے۔

اپنے دور کے دیگر عالموں کی طرح، ان کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھی۔

بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے نقادوں میں شامل ہو گئے۔ بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔

خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔

1981 میں خامنہ ای صدر منتخب ہوئے جبکہ 1989 روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔

مغرب سے تعلقات اور جوہری معاہدہ

خامنہ ای مغرب خصوصاً امریکا کے حوالے سے سخت موقف رکھتے تھے۔ تاہم 2015 میں انہوں نے ایران کے جوہری معاہدے کی منظوری دی جسے مشترکہ جامع منصوبہ عمل کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں امریکہ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران اور مغرب کے تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔

ان کے دور میں 2009 کے گرین موومنٹ احتجاج، 2019 کے معاشی مظاہرے اور 2022 کے خواتین کے حقوق سے متعلق احتجاج جیسے بڑے چیلنجز بھی سامنے آئے۔ ان مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔

محورِ مزاحمت کی حکمت عملی

خامنہ ای نے خطے میں ایران کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو مضبوط کیا جسے ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں لبنان کی حزب اللہ، فلسطین کی حماس، یمن کے حوثی اور عراق کے مسلح گروہ شامل رہے۔ ان کی اس حکمت عملی نے ایران کو خطے میں اہم طاقت کے طور پر ابھارا، تاہم حالیہ برسوں میں ان اتحادیوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

آخری دن اور خطے کی صورتحال

اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں کے تبادلے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی تھی۔ امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایران میں ’بڑی فوجی کارروائی‘ شروع کردی ہے۔ اس تناظر میں خامنہ ای کی ہلاکت خطے کی سیاست میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ان کی وفات کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملک ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔