عارفی کو ایران کی اس تین رکنی لیڈرشپ کونسل کا رکن نامزد کر دیا گیا ہے، جس نے خامنہ ای کی موت کے بعد اپنی ذے داریاں سنبھال لی ہیں اور جو نئے سپریم لیڈر کے حتمی انتخاب تک ملک کا اعلیٰ ترین اور سب سے با اختیار ادارہ ہو گی۔


تہران سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق آیت اللہ علی رضا عارفی کی عمر 66 برس ہے اور وہ اب اس کونسل کے رکن ہیں، جو عبوری طور پر ملک کی حکمران ہے۔

آیت اللہ عارفی پہلے ہی ان دونوں آئینی اداروں، شوریٰ نگہبان اور ماہرین کی اسمبلی کے رکن تھے، جو ملک کے نئے سپریم لیڈر کا چناؤ کرے گی۔


آیت اللہ عارفی کو 2019ء میں اس دور تک سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے شوریٰ نگہبان کا رکن نامزد کیا تھا۔

علی رضا عارفی کے علاوہ ایران میں حکمران تین رکنی لیڈرشپ کونسل کے باقی دو اراکین ملکی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژائی ہیں۔


یاد رہے کہ ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا اور وہ تین دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔

آیت اللہ خمینی ساڑھے نو برس تک اس عہدے پر فائز رہے اور 1989 میں ان کی وفات کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ چنا گیا اور وہ 28 فروری 2026 کو اپنی شہادت تک ساڑھے 36 برس یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔

ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق، رہبرِ اعلیٰ کی موت سے لے کر مجلسِ رہبری کی جانب سے نئے قائد کے متعارف کروائے جانے تک، تین رکنی کونسل عارضی طور پر قائدانہ فرائض سنبھالتی ہے۔ 

اس کونسل کے ارکان میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ، اور شوریٰ نگہبان کے ایک فقیہ ہوتے ہیں جنھیں  مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ نامی ادارے کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔