سینیٹ اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملے کی فوری اور کھلے انداز میں مذمت کی اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جوہری توانائی کے پُرامن استعمال سے متعلق ایران کے جائز حق کی حمایت کرتا ہے، جبکہ امریکا ایران کے پورے جوہری پروگرام کے خاتمے کا خواہاں تھا۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات عمان کی ثالثی میں کامیابی سے جاری تھے اور فریقین کے درمیان پیشرفت ہو رہی تھی، ایران اس بات پر رضامند تھا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، لیکن اسی دوران گزشتہ برس جون کی طرز پر ایک بار پھر حملہ کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں پاکستان نے واضح کیا کہ ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنے کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملے کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق 12 برس بعد سلامتی کونسل میں اتفاقِ رائے سے قرارداد منظور ہوئی، جس میں ایران سے متعلق پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ پاکستان نے 28 فروری کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا اور معاملے کے سفارتی حل پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: ایران میں رجیم چینج کی کوششیں نہ روکی گئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، روس
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوابی اقدامات کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں کشیدگی بڑھی، تاہم پاکستان نے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مزید نہ بڑھانے کی تلقین کی،پاکستان نے عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران سے اظہارِ یکجہتی کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت جاری ہے،ایران کی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کے حق میں تشکر کے نعرے لگائے گئے، جو پاکستان کے مؤقف کی تائید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن و سلامتی اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے اور آئندہ بھی خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔







