ایک انٹرویو میں دیمتری میدودیف کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے سے امریکا اور اسرائیل نے نہ صرف خطے کو غیر مستحکم کیا بلکہ اپنے ہی شہریوں کو زیادہ خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ان حملوں کو برداشت کر لے گا، تاہم اس اقدام نے ایرانی قوم کو مزید متحد کر دیا ہے اور اب تہران دگنی رفتار سے اپنے دفاعی اور ممکنہ جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ جنگ دراصل امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عالمی سطح پر اپنا غلبہ برقرار رکھنے کی کوشش ہے، ایران میں رجیم چینج کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے اور کوئی بھی معمولی واقعہ عالمی جنگ کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔

میدودیف نے یورپی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ روس کے ساتھ جوہری تصادم کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیوکلیئر تنازع ہوا تو اس کے اثرات ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہونے والے حملوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے۔

روسی بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری ممکنہ وسیع جنگ کے خدشات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس کا یہ سخت مؤقف عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بڑے تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

یاد رہے  کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، بصورت دیگر خطہ ایک وسیع اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔