اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ رکھی ہے، جس میں نہ صرف قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ تعلیمی اداروں پر حملے بھی کیے گئے، جن کے نتیجے میں معصوم بچے جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کوئی پاسداری نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اب امریکا پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ وہ طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کر رہا ہے، غزہ میں بھی ایک متبادل نظام متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے اقوام متحدہ کے مساوی حیثیت دینے کی بات کی جا رہی ہے، جو عالمی نظام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی دراصل خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے اور اسرائیل کا اصل ہدف صرف ایران نہیں بلکہ پاکستان بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس صورتحال میں واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسے کسی بھی بین الاقوامی اقدام سے علیحدگی اختیار کرنی چاہیے جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے۔

مزید پڑھیں: ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر تیار تھا، مثبت مذاکرات کے باوجود حملہ کیا گیا: اسحاق ڈار

امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی کے تناظر میں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا واضح اعلان کرے، یہ محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور خودمختاری کا سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس تنازع کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا تک پھیل سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی مضبوط بنانا ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی کی راجہ ناصر عباس جعفری سے ملاقات

بعد ازاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے  چیئرمین مجلس وحدت المسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ملاقات کی، ملاقات میں ایران پر حملے میں شہید ہونے والے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور پاکستان میں امریکی ایمبیسی سے متعلق افسوسناک واقعے کے شہداء کے حوالے سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

 حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ سانحات امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے لیے نہایت صدمہ انگیز ہیں۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔


انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویشناک ہے اور ایسے واقعات امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے باہمی اتحاد، قومی یکجہتی اور پرامن حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر قسم کی دہشت گردی اور جارحیت کی مذمت کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔