وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں جماعت اسلامی کے وفد میں لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم اور آصف لقمان قاضی بھی شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے وفد کو افغانستان، ایران اور مشرق وسطیٰ و خلیجی ممالک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران جماعت اسلامی کے وفد کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ملاقات میں وفد کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایران اور خلیجی ممالک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کی جانب سے وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومتی حکام نے وفد کو بتایا کہ مشکل حالات کے باوجود بیرون ملک پاکستانیوں کی مدد اور رہنمائی کے لیے سفارتی عملہ متحرک ہے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے وفد نے بھی خطے کی صورتحال اور ملکی مفاد کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور قومی معاملات پر حکومت کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا اصل ہدف صرف ایران نہیں بلکہ پاکستان بھی ہو سکتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان
ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، رانا مبشر اقبال، وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری بھی شریک تھے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر قومی سطح پر سیاسی اور مذہبی قیادت کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے مفادات کا مؤثر تحفظ کیا جا سکے۔







