امریکی تحقیقی ادارے (سی ایس آئی ایس) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جنگی کارروائیوں کے آغاز کے بعد صرف پہلے چند دنوں میں ہی امریکی فوج کو بڑے پیمانے پر مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اخراجات میں جنگی طیاروں کی پروازیں، بحری بیڑوں کی تعیناتی، میزائل اور گولہ بارود کا استعمال، انٹیلی جنس آپریشنز اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید جنگی ٹیکنالوجی اور اسلحے کے استعمال کی وجہ سے ہر گھنٹے کے ساتھ اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سی ایس آئی ایس کے مطابق امریکا کو اس تنازع کے دوران اپنے دفاعی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اضافی مالی وسائل کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ موجودہ دفاعی بجٹ میں اس سطح کے طویل تنازع کے اخراجات کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکی محکمہ دفاع کو کانگریس سے اضافی فنڈز کی منظوری حاصل کرنا پڑ سکتی ہے، موجودہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے اس تنازع کے اخراجات کو پورا کرنا سیاسی اور عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقی ادارے کے مطابق امریکی فوج کم لاگت گولہ بارود اور متبادل ہتھیاروں کے استعمال پر غور کر رہی ہے تاکہ جنگی اخراجات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے، تاہم اس کے باوجود ایران کے ساتھ ممکنہ طویل تنازع کے مالی اثرات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف امریکا بلکہ عالمی معیشت بھی اس کے اثرات سے متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
واضع رہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے معاشی اثرات بھی بہت وسیع ہوتے ہیں، اور کسی بھی طویل فوجی مہم کے لیے مسلسل مالی وسائل فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔







