امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے تقریباً 12 ہزار ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم باڈیز خریدنے کی درخواست کی تھی، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کر لیا ہے۔ اس دفاعی پیکج میں انجینئرنگ خدمات، تکنیکی معاونت، لاجسٹکس سپورٹ اور پروگرام مینجمنٹ جیسی سہولیات بھی شامل ہوں گی تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ فروخت امریکا کے قومی سلامتی کے مفادات کے مطابق ہے اور خطے میں اس کے اہم اتحادی کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے،اس اقدام سے اسرائیل کو موجودہ اور مستقبل میں درپیش ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت دفاعی سامان اور خدمات کی فراہمی اسرائیل کو فوری بنیادوں پر کی جائے گی تاکہ اس کی عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالر کے بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی pic.twitter.com/lim1rOWqvU
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) March 7, 2026
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید بتایا کہ اس فروخت کے لیے آرم ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 36 بی کے تحت کانگریس کے جائزے کی شرط کو بھی معاف کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس دفاعی معاہدے کی منظوری کا عمل تیز ہو گیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس نوعیت کے معاہدے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا کی جانب سے اسرائیل کو جدید دفاعی سازوسامان کی فراہمی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے اسرائیل کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔







