صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران دھونس، دھمکیوں، ناانصافی اور جارحیت کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا اور دشمن کے خوابوں کو ڈراؤنا بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ملک خطے کے تمام دوست ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن یہ خواہش امریکا کے سامنے دفاعی حقوق سے سمجھوتہ کرنے کا مطلب نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں اپنے دوست ہمسایہ ممالک پر حملے نہیں کیے، بلکہ امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاکہ خطے میں موجود غیر ملکی فوجی سہولیات پر دباؤ قائم کیا جا سکے۔
JUST IN 🇮🇷🇺🇸: President of Iran to Trump and Netanyahu: "The Dream They had Will Surely Become a Nightmare."
— Tarique Hussain (@Tarique18386095) March 8, 2026
Masoud Pezeshkian: "We must not let Israel and America deceive and trick the region s countries into standing against each other.
Our Iran and our nation will stand with… pic.twitter.com/hFUc3WOQ9P
ان کے مطابق، ایران کی یہ پالیسی صرف دفاعی نوعیت کی ہے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، امریکی اور دیگر دشمن قوتوں کو خبردار کیا کہ ایران کا ردعمل صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ دانشمندانہ اور فیصلہ کن بھی ہوگا۔
مزید پڑھیں: ایران کا کویت کے ال عدیری ائربیس پر ڈرون اور میزائل حملہ، امریکی فوجی مرکز تباہ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
خطے کے ماہرین کے مطابق، ایران کے اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی جارحیت کے جواب میں فوری اور سخت کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔







