بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے کے بعد ائربیس میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دھواں اب بھی بلند ہے، جسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ حملے کی شدت کے باعث ائربیس کے کئی بنیادی ڈھانچے مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے ہیں اور اہلکاروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
ایران کی وزارت تیل نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے کے دوران تین مختلف فیول ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جن میں البرز صوبے کے شہر کرج کا ڈپو بھی شامل ہے، جو تہران کے مغرب میں واقع ہے۔
اسی دوران اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہ شدہ تیل کے ڈپو سے رسنے والا تیل تہران کے بعض سیوریج نظام تک پہنچ گیا، جس کی وجہ سے دارالحکومت کی سڑکوں کے کنارے آگ کی ندی بھڑک اٹھی۔ شہریوں کی جانب سے وائرل کی جانے والی ویڈیوز میں شہر کی سڑکوں کے ساتھ جلتی ہوئی آگ اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے، جس نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔
مزید پڑھیں: سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ لینے تک دشمنوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ایران
یاد رہے کہ اس حملے سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے شدید اقدامات کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک بھی محتاط ہو گئے ہیں اور فوجی تیاریاں بڑھا دی گئی ہیں۔







