و دہرایا کہو دہرایا کہاسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال ہیں اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو انتباہی پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان کا فضائی دفاع نظام ’فی الحال ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہے ہیں۔‘ انھوں نے قریبی علاقوں میں رہنے والوں سے ’حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے‘ کی ہدایت کی ہے۔
دریں اثنا، قطر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مسلح افواج نے ملک کی جانب داغے گئے ایک میزائل حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور آج ایران پر حملوں کا سب سے شدید دن ہوگا۔
پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ آج پھر سے، ایران کے اندر حملوں کا ہمارا سب سے شدید دن ہوگا۔ سب سے زیادہ فائٹر، سب سے زیادہ بمبار، سب سے زیادہ حملے، پہلے سے کہیں بہتر انٹیلی جنس اور سب پہلے سے بہتر۔‘
ہیگستھ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سب سے کم میزائل فائر کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا عزم لامتناہی ہے، لیکن یہ صدر ٹرمپ کو طے کرنا ہے کہ ان مقاصد کو کس حد تک حاصل کرنے ہے۔ یہ فیصلہ بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنا ہے کہ جنگ کب تک جاری رہے گی۔ ہم بھرپور طریقے سے ’دشمن کو کچل رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی مرضی اور اپنے چنے ہوئے وقت کے مطابق ایسا کر رہا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے خلاف جنگ انجام کے قریب ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ ایرانی فورسز ’جان بوجھ کر بے گناہوں کو نشانہ بنا رہی ہیں‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی اپنی افواج کو ’منظم طریقے سے نیست و نابود اور تباہ‘ کیا جا رہا ہے۔ ایران اس وقت تنہا کھڑا ہے اور وہ بری طرح ہار رہا ہے۔‘







