رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینیٹرز کو کیپیٹل ہل میں ایک خفیہ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں اخراجات تقریباً 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم یہ رقم مکمل اخراجات کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ اس میں جنگ سے قبل فوجی سازوسامان کی تعیناتی اور تیاریوں کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں بڑی تعداد میں مہنگے اور جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جس کے باعث روزانہ کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ دفاعی حکام کے مطابق جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی حملوں میں جدید ہتھیاروں میں شامل AGM-154 گلائیڈ بم بھی استعمال کیے گئے، جن کی قیمت تقریباً 5 لاکھ 78 ہزار سے 8 لاکھ 36 ہزار ڈالر فی یونٹ تک بتائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ نسبتاً کم قیمت والے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن (جے ڈی اے ایم) جیسے ہتھیار بھی استعمال کیے گئے جن میں وارہیڈ اور گائیڈنس کٹ کی قیمت تقریباً 39 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل فضائی کارروائیوں اور جدید اسلحے کے استعمال کے باعث جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً تقریباً 891 ملین ڈالر۔
رپورٹ کے مطابق جنگی اخراجات کے باعث واشنگٹن میں ایک نیا سیاسی اور مالیاتی تنازع بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ کانگریس کے معاونین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس جلد ہی جنگ جاری رکھنے کے لیے اضافی فنڈز کی درخواست کر سکتا ہے اور امکان ہے کہ اس مقصد کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی اضافی رقم مانگی جائے۔
ادھر امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ کی موجودہ رفتار سے امریکی فوج کے اسلحہ ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں دفاعی صنعت کی سات بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں تاکہ اسلحے کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو تحفظ دینے کے لیے ہماری فوج فی الحال تیار نہیں، امریکی وزیر توانائی
جنگ کے انسانی اور معاشی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اب تک تقریباً 2000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر شہادتیں ایران اور لبنان میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ادھر امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے حکومت سے جنگ کی طویل مدتی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ کرس مرفی نے ایک بیان میں کہا کہ جنگی منصوبہ بندی ابھی تک غیر واضح اور نامکمل دکھائی دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ 11.3 ارب ڈالر صرف ابتدائی اخراجات ہیں اور اگر جنگ طویل ہوئی تو اس کی مجموعی لاگت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔







