اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایک نہ ایک طریقے سے ہم جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیں گے تاکہ یہ راستہ کھلا، محفوظ اور آزاد ہو سکے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ بھی اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجیں گے تاکہ یہ راستہ کسی کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ  کئی ممالک امریکا کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحری جہاز تعینات کریں گے۔ اس دوران امریکا ایرانی ساحلی علاقوں پر حملے کرے گا اور ایرانی کشتیوں اور جہازوں کو پانی میں ہی نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیت تباہ کر چکا ہے، تاہم ایران کے لیے اب بھی ڈرونز، بارودی سرنگوں اور قریبی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنا آسان ہے۔

دوسری جانب جنیوا میں ایران کے نمائندے علی بحرینی نے ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی صلاحیتوں کے خاتمے سے متعلق امریکی صدر کے بیانات من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

ایک علیحدہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر حالیہ حملے سے متعلق رپورٹس کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فضائیہ کے پانچ ری فیولنگ ٹینکر طیاروں میں سے چار کو تقریباً کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ دوبارہ سروس میں آ چکے ہیں، جب کہ پانچواں طیارہ بھی معمولی مرمت کے بعد جلد پرواز کے قابل ہو جائے گا۔

امریکی میڈیا کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی حملوں میں ان طیاروں کو نقصان پہنچا، تاہم ٹرمپ نے ان رپورٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ طیارے نہ تو تباہ ہوئے اور نہ ہی انہیں براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکی افواج نے ایران کے خرج جزیرے میں فوجی اہداف پر بھرپور حملے کیے ہیں، صدر ٹرمپ

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان کے مطابق خلیجی خطے میں امریکی بینکوں کی شاخوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ایرانی بینکوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اندازاً ہر ماہ تقریباً 3 ہزار جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں جب کہ 2025 میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اس آبنائے سے منتقل کیا گیا۔