برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے،ایران کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے تاہم موجودہ حالات میں انہیں یہ امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ ایران کسی فوری سمجھوتے کے لیے تیار ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کم از کم سات ممالک سے بات چیت جاری ہے اور ان ممالک سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کی حفاظت اور اسے کھلا رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اسرائیل بھی اس حوالے سے امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتا ہے، کئی ممالک اس راستے سے توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس کے تحفظ کے لیے متحد ہو۔
برطانوی اخبار کے مطابق امریکی صدر نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر نیٹو اتحاد کے رکن ممالک اس معاملے میں عملی تعاون فراہم نہیں کرتے تو اس اتحاد کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں، جب عالمی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا سامنا ہو تو اتحادیوں کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں چین کے صدر کے ساتھ متوقع ملاقات بھی مؤخر ہو سکتی ہے، ایسی ملاقات اس وقت ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جب وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت اور توانائی کی فراہمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں کہ وہاں کوئی کشیدہ یا خطرناک صورتحال پیدا نہ ہو۔
امریکی صدر نے اس سے قبل ہفتے کے روز بھی عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ انہوں نے چین کے علاوہ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے بحری جہاز خطے میں بھیج کر اس اہم سمندری راستے کے تحفظ میں کردار ادا کریں۔
تاہم عالمی سطح پر اس اپیل پر اب تک محتاط ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور بیشتر ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پر بحری جہاز بھیجنے یا کسی مشترکہ آپریشن میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ خطے کی حساس صورتحال کے باعث کئی ممالک اس معاملے پر محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
واضع رہے کہ آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔







