دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جس کے دوران مختلف علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ ایک اہم مشاورتی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری کشیدگی، سیکیورٹی چیلنجز اور سفارتی حل پر غور کیا جائے گا۔
وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اجلاس کے دوران پاکستان کے مؤقف کی بھرپور نمائندگی کریں گے اور خطے کے ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کریں گے۔
اسحاق ڈار اس موقع پر خطے میں جاری تنازعات کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کریں گے۔ وہ اس بات پر بھی زور دیں گے کہ مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
وزیر خارجہ اپنے خطاب میں پاکستان کی جانب سے امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بھی اجاگر کریں گے، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار جاری رکھے گا۔
اجلاس میں عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش سیکیورٹی خطرات، توانائی کے مسائل اور اقتصادی اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
اس اہم دورے کے دوران وزیر خارجہ کی مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں باہمی تعلقات، اقتصادی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضع رہے کہ اسحاق ڈار کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور ایسے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔







