میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتحاد نے اس اہم بحری راستے کو کھولنے میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک پانچواں تیل گزرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جاپان نیٹو کے برعکس اس معاملے میں آگے بڑھ رہا ہے، کسی بھی مقام پر امریکی فوج تعینات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، جب کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو وقت سے آگے قرار دیا۔
انہوں نے ماضی کے دعوے دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا جب چاہے جزیرہ خارگ کو نشانہ بنا سکتا ہے، جہاں سے ایران کی 90 فیصد خام تیل برآمد ہوتا ہے۔
دوسری جانب جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی عالمی امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا ایک سنگین سکیورٹی صورتحال سے گزر رہی ہے اور عالمی معیشت کو بڑے دھچکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سانائے تاکائیچی نے کہا کہ ان کا دورہ اس پیغام کو براہ راست امریکی صدر تک پہنچانے کے لیے ہے کہ عالمی برادری امن کی خواہاں ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جاپان ایران کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کی مذمت کرتا ہے۔







