ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں حالیہ فوجی کشیدگی، اس کے خطے اور عالمی امن پر ممکنہ اثرات اور سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اہم امور زیر بحث آئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی قیادت اور عوام کو عیدالفطر کی دلی مبارکباد پیش کی، جس کے جواب میں سعودی ولی عہد نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں  نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے ساتھ کھڑا رہے گا، جیسے ماضی میں سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خطے میں فوری جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم دنیا کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ مزید برآں، وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جن کا مقصد تنازعات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطحی رابطوں اور تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، جاری فوجی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت و بحری تجارت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ برطانوی وزیراعظم نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکیلئے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، وزیراعظم

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں سفارتی سطح پر اہم پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس پیشکش کو عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی پیغام دیا، جسے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہوئی۔

واضع رہے کہ  پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ رابطے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔