جنیوا میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالمحسن بن خثیلہ نے کہا کہ یہ حملے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی پالیسیوں کا تسلسل تہران کے لیے کسی فائدے کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اسے بھاری سیاسی اور اقتصادی قیمت چکانا پڑے گی اور اس کی عالمی تنہائی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے، بصورت دیگر ایسے اقدامات اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گے۔

عبدالمحسن بن خثیلہ نے کہا کہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ کسی ثالث کو نشانہ بنانا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے ان حملوں کو بلاجواز اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا طرزِ عمل بلیک میلنگ، ملیشیاؤں کی سرپرستی اور پڑوسی ممالک کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حملے عالمی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور ان کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سعودی مندوب نے زور دیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، بشمول انسانی حقوق اور انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں، اور دنیا اس صورتحال سے نظریں نہیں چرا سکتی۔

انہوں نے خلیج عرب میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی مذمت کی اور خبردار کیا کہ اس کے خطے کی سلامتی اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی عرب نے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی اقتصادی چیلنجز کو مزید سنگین بناتے ہیں، خصوصاً ان ترقی پذیر ممالک کے لیے جو بیرونی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، جبکہ توانائی اور خوراک کی فراہمی کو متاثر کرنے کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔