امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.4 ارب سے 2.9 ارب ڈالرز (1800 ارب روپے) کے درمیان لگایا گیا ہے۔

پینٹاگون کی سابق بجٹ اہلکار ایلین میک کُسکر، جو اس وقت امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں انہوں نے اخبار کو بتایا کہ تنازع کے پہلے تین ہفتوں میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 1.4 ارب سے 2.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے کے ریڈار کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون ممکنہ طور پر ان نقصانات کو ایران سے متعلق اضافی اخراجات کی ایک بڑی درخواست (جس کا حجم 200 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے) کی صورت میں وائٹ ہاؤس کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یکم مارچ کو ایک کویتی ایف/اے-18 ہارنیٹ جیٹ لڑاکا طیارہ نے غلطی سے تین امریکی ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل طیاروں کو نشانہ بنایا، تاہم تمام چھ اہلکار محفوظ طور پر ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے، جب کہ ایک جدید ایف-15 طیارے کی قیمت تقریباً 100 ملین ڈالر ہے۔

19 مارچ کو ایک امریکی ایف-35 اے لائٹننگ II سٹیلتھ لڑاکا طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی، جب کہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طیارے کو نشانہ بنایا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔ اس طیارے کی مالیت تقریباً 82.5 ملین ڈالر ہے۔

12 مارچ کو عراق کی فضائی حدود میں دو کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر طیاروں کے تصادم کے نتیجے میں چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں شہزادہ سلطان فضائی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں مزید پانچ کے سی-135 طیارے متاثر ہوئے، جن میں سے بعض کی مرمت جاری ہے۔

چونکہ کے سی-135 طیارے اب تیار نہیں کیے جاتے، اس لیے امریکی فضائیہ ممکنہ طور پر ان کی جگہ جدید کے سی-46 پیگاسس طیارے شامل کرے گی، جن کی فی یونٹ قیمت تقریباً 165 ملین ڈالر ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے ایک درجن سے زائد ایم کیو-9 ریپر ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں کم از کم آٹھ میزائل حملوں میں مار گرائے گئے، تین زمین پر تباہ ہوئے، جب کہ ایک کو خلیج فارس کے ایک اتحادی ملک نے غلطی سے نشانہ بنایا۔ ایک ایم کیو-9 ڈرون کی قیمت کم از کم 16 ملین ڈالر ہے، جب کہ نئے ایم کیو-9 بی اسکائی گارڈین ماڈل کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔

12 مارچ کو طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ میں آگ بھڑک اٹھی، جو بعد ازاں جہاز کے مختلف حصوں تک پھیل گئی۔ جہاز کو مرمت کے لیے یونان کی سوڈا بے بندرگاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایران نے اردن میں نصب تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے اے این/ٹی پی وائی-2 ریڈار کو بھی نشانہ بنایا، جس کی مالیت کم از کم 300 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

مزید برآں، ایران نے قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، کویت اور سعودی عرب میں ریڈار، مواصلاتی اور فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا۔ العدید فضائی اڈے (قطر) میں نصب اے این/ایف پی ایس-132 ابتدائی وارننگ ریڈار کو بھی نقصان پہنچا، جس کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ وجہ سامنے آ گئی

رپورٹ کے مطابق ان نقصانات نے خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کی لاگت اور پیچیدگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جب کہ آئندہ اخراجات میں مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کے مالی اخراجات بھی 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جب کہ ایران کے حملوں سے ہونے والا براہِ راست نقصان اس میں شامل نہیں ہے۔