میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایران میں امریکی آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق اب تک 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مزید دباؤ ڈالنے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے اور ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے، جب کہ امریکی کارروائی میں ایران کی بحریہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور 150 سے زائد جہاز تباہ کیے گئے، جن میں بڑے جنگی جہازوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے تاکہ سفارتی حل کا موقع دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکا کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ کرے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ موقع ضائع کیا تو امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے تیار ہے اور ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کی تردید کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطے اور بات چیت جاری ہے۔ کیرولین لیویٹ نے کہا کہ نجی سطح پر ہونے والی بات چیت اکثر عوامی بیانات سے مختلف ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذاکرات میں شامل افراد جوابدہ ہوں، جب کہ ان کے بقول موجودہ رابطوں میں شامل افراد ماضی کے مقابلے میں زیادہ معقول دکھائی دیتے ہیں۔

ایران میں جاری آپریشن کے دورانیے سے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ کارروائیاں تقریباً چار سے چھ ہفتے جاری رہ سکتی ہیں اور موجودہ صورتحال بھی اسی اندازے کے مطابق ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا کے بنیادی اہداف میں ایران کی بحریہ اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو محدود کرنا، دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے، جب کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

ایران میں ممکنہ زمینی افواج کی تعیناتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے۔

کانگریس کی منظوری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیشہ قانون کی پاسداری کرے گی اور صدر کو کانگریس کا احترام حاصل ہے۔

ایک اور سوال پر جس میں ایران کے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق بات کی گئی، کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکا کی مسلح افواج ہر کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دیتی ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید وضاحت نہیں دی گئی۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر اپنے طے کردہ اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ پینٹاگون کا کردار ضروری عسکری طاقت فراہم کرنا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تر صورتحال کے باوجود سفارت کاری اب بھی صدر ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے۔