جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز ہوتے ہی منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور ابتدائی لمحات میں ہی 100 انڈیکس 3,763 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ 151,748 کی سطح پر آ گیا۔
کاروبار کے دوران فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 4,088 پوائنٹس تک گر کر 151,423 کی سطح پر پہنچ گیا، جبکہ مجموعی طور پر انڈیکس میں 2.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے بیان نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر پاکستان سمیت دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹس پر بھی مرتب ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے ممکنہ جنگی کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر حصص کی فروخت کو ترجیح دی، جس کے باعث مارکیٹ میں شدید دباؤ دیکھنے میں آیا۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ سے نکلنے کے عندیے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، تاہم تازہ اعلان نے صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا اور مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوگئی۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی اور عسکری حالات کا براہِ راست اثر اسٹاک مارکیٹس پر پڑتا ہے، اور ایسے بیانات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں، اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں ’جنگ کا خاتمہ‘۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد اسرائیل میں بے چینی کیوں ہے؟
دوسری جانب عالمی مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل کرنا شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، اور اس کے اثرات مختلف ممالک کی مالیاتی منڈیوں میں مسلسل دیکھے جا رہے ہیں۔







