بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ کم از کم ایک اہلکار تاحال لاپتہ ہے، جس کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اتحادی افواج کو ایرانی فضائی حدود پر مکمل برتری حاصل ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوب مغربی علاقے میں امریکی فضائیہ کے ایف-15 ای سٹرائیک ایگل طیارے کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق لاپتہ پائلٹس کی تلاش کے لیے بھیجے گئے بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی، تاہم وہ بحفاظت واپس آنے میں کامیاب رہے۔
ایک اور واقعے میں اے-10 وار تھوگ طیارہ ایرانی فائر کی زد میں آ کر کویت کی حدود میں گر کر تباہ ہوا، جبکہ اس کا پائلٹ ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ پینٹاگون نے ایک طیارے کے گرنے کی تصدیق کی ہے تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور مقامی حکام نے شہریوں سے لاپتہ امریکی عملے کی تلاش میں مدد کی اپیل کی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک اعلان میں کہا گیا کہ دشمن کے پائلٹ کو زندہ پکڑنے والے کو انعام دیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سوشل میڈیا پر ان واقعات پر ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے طنزیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ اب اپنے مقاصد سے ہٹ کر پائلٹس کی تلاش تک محدود ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ ریسکیو آپریشن کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ طیاروں کے نقصان سے ممکنہ مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ یہ ایک جنگی صورتحال ہے۔
یہ تنازع 28 فروری کو شروع ہوا تھا اور اب تک دونوں جانب سے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ ایران کی جانب سے خلیج میں توانائی تنصیبات اور اسرائیل پر ڈرون حملے جاری ہیں۔
ادھر سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں میں بھی پیش رفت رکی ہوئی ہے، اور رپورٹس کے مطابق ایران نے ثالثی کے لیے جاری رابطوں میں پیش رفت سے گریز کیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس تنازع کے عالمی معیشت پر اثرات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔







