اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک تازہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے ساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں اور یہ عمل جاری رہے گا، جب کہ 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گااور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہاں ایک نہایت نتیجہ خیز تبدیلیٔ حکومت (رجیم چینج) رونما ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا، جب کہ امریکا تہران کے ساتھ مل کر گہرائی میں دفن (بی-2 بمبار طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی) تمام جوہری گرد کو نکال کر ختم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام عمل اس وقت بھی اور پہلے بھی انتہائی سخت سیٹلائٹ نگرانی میں رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ملک اگر ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا تو اس ملک کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا اور اس فیصلے میں کسی قسم کی کوئی رعایت یا استثنا شامل نہیں ہوگا۔







