میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی معاونت کے لیے 23 رکنی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے، جس میں سکیورٹی ماہرین، سفارتی عملہ اور دیگر تکنیکی ارکان شامل ہیں۔ یہ ٹیم ممکنہ مذاکرات کے انتظامات اور سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جو آج رات گئے اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے،ایرانی وفد بھی مذاکرات کے حوالے سے مکمل تیاری کے ساتھ پاکستان آ رہا ہے۔
اس پیش رفت سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے، جو پاکستان میں بات چیت کرے گی،یہ اہم ملاقات ہفتے کی صبح اسلام آباد میں متوقع ہے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستانی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ ایران سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے اپنا وفد پاکستان بھیج رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں، ٹرمپ
سفارتی حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم عالمی و علاقائی معاملات پر پیش رفت کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بطور میزبان کردار عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرے گا، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقاتیں مستقبل کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔







