امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ایک علیحدہ جھڑپ ہے۔ حزب اللہ کی وجہ سے لبنان کو اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا، اسے بھی بعد میں نمٹا لیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی پورے خطے پر لاگو ہوتی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ اس تضاد نے خطے میں جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی واضح کیا کہ لبنان پر حملے جاری رہیں گے، جس کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان بھر میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں رہائشی عمارتیں، مساجد اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے جب کہ پہلے ہی 12 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایک حملہ بقاع وادی کے علاقے شمستار میں جنازے پر کیا گیا، جس میں کم از کم 20 افراد جاں بحق ہوئے۔
ایرانی خبر رساں اداروں بشمول فارس نیوز ایجنسی اور تسنم نیوز ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو تہران جنگ بندی سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کو اس جرم کی سزا دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا، ڈونلڈٹرمپ
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معطل کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین اور سفارتی کوششوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔







