عالمی یومِ کتاب کے موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ  یہ دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں کتاب کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جہاں ڈیجیٹل ذرائع اور مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، وہیں کتابوں کی اہمیت میں کمی نہیں آئی بلکہ ان کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ گہرائی سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کتابوں کے ذریعے ہی پروان چڑھتی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ نوجوان نسل کو مطالعہ کی طرف راغب کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ یہی عادت انہیں تحقیق، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی طرف لے جاتی ہے، جو قومیں علم کو اپناتی ہیں، وہی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں مطالعہ کے کلچر کو فروغ دیں۔

آصف علی زرداری  نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کتاب انسان کی بہترین ساتھی ہے، جو ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتی ہے اور انسان کو زندگی کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے، معاشرتی چیلنجز اور مسائل کا حل بھی علم اور مطالعہ میں پوشیدہ ہے، کیونکہ باشعور افراد ہی بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں تیزی لائی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

 قومی سطح پر اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئےانہوں نے کہا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن ملک میں کتابوں کے فروغ کے لیے اہم خدمات انجام دے رہی ہے، تاہم اس شعبے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کتابوں کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

آخر میں صدر مملکت نے کہا کہ کتابیں ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرتی ہیں، اور اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو کتاب سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو ایک روشن، ترقی یافتہ اور باشعور پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔