واشنگٹن میں اینٹیفا سے متعلق ایک گول میز اجلاس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ غزہ میں فائر بندی کے لیے جاری کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا وہ غزہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ممکن ہے، ہم نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ سب لوگ اس وقت مصر میں ہیں اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ میرا اگلا پڑاؤ مصر ہی ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے انہیں ایک پرچی دی، جس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایک امن معاہدے کے بہت قریب ہیں اور مجھے فوراً وہاں جانا ہوگا۔ کچھ اہم مسائل حل کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایک قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کے بعد ٹرمپ نے اینٹیفا کو گھریلو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔
اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے میڈیا، ڈیموکریٹس اور احتجاجی مظاہرین پر شدید تنقید کی، جب کہ ایک موقع پر انہوں نے بوسٹن شہر کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ 2020 کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی برآمدات پر ٹیکس بڑھانے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات منسوخ کرنے کی دھمکی: 'بیجنگ نے اپنے فیصلوں سے واشنگٹن کو دھوکہ دہی کا احساس دلایا ہے'
دوسری جانب اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن اور فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں کے تعطل سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا کہ ہم اپنی فوج کا مکمل خیال رکھیں گے۔ ایک ہفتہ میرے لیے طویل وقت ہے، لیکن ہم اس معاملے کو جلد حل کرلیں گے۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ملک بند رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہیلتھ کیئر کے فنڈز بڑھا سکیں، جب کہ ہم صرف ملک کو کھولنا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے حل اور امن کی بحالی کے لیے جلد اہم پیش رفت کریں گے۔







