میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “جب آپ طاقتور اور بااثر ہوتے ہیں تو آپ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔” انہوں نے اس واقعے کو اپنی حکومتی پالیسیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلوں اور اصلاحات سے کچھ حلقے ناخوش ہیں، جس کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔
جب وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک اہم تقریب کے دوران مسلح شخص نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی نے کسی بڑے نقصان سے بچا لیااور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ممکنہ حملے کی کوشش کے دوران محفوظ رہے،
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی شب اس وقت پیش آیا جب وائٹ ہاؤس کاریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کی سالانہ تقریب جاری تھی، جس میں سیاستدانوں، صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات سمیت ہزاروں افراد شریک تھے۔ تقریب اپنے عروج پر تھی کہ اچانک ایک مشتبہ شخص اسلحہ لے کر سیکیورٹی رکاوٹوں کی جانب بڑھا اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی سیکیورٹی اہلکاروں کو صورتحال کا علم ہوا، انہوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو قابو کر لیا۔ اس دوران تقریب میں موجود تقریباً 2600 افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا، کئی افراد نے اپنی حفاظت کے لیے زمین پر لیٹنے کو ترجیح دی جبکہ کچھ کو فوری طور پر باہر نکالا گیا۔
سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کو سیکیور مقام پر منتقل کیا اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور وائٹ ہاؤس کے اطراف نگرانی مزید سخت کر دی گئی۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) April 26, 2026
گرفتار ملزم کے قبضے سے بندوق، پستول اور چاقو برآمد ہوئے ہیں، جبکہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے ایک تحریری منشور بھی تیار کر رکھا تھا، جس میں اس کے ارادوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تفتیشی ادارے اس کے پس منظر، ممکنہ سہولت کاروں اور محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری بڑی کوشش ہے۔ اس سے قبل 2024 میں ایک انتخابی جلسے کے دوران بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں وہ معمولی زخمی ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔
حالیہ واقعے کے بعد امریکی سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں اہم سرکاری عمارتوں اور تقریبات کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے اندر اور باہر نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایسے واقعات نہ صرف سیکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بھی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔







