اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ڈرون بنانے کی صلاحیت تقریباً 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں تقریباً 90 فیصد تک تباہ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے بہت سے میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں، یہ حیران کن ہے کہ کیا کچھ ہو چکا ہے۔ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض لوگ اسے جنگ قرار دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکی معیشت مضبوط ہے، اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور S&P 500 نئی بلندیوں پر پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد گیس (پیٹرول) کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ ایران فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لے، جو اس سال شمالی امریکا میں منعقد ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہشمند ہے، تاہم مذاکرات کی اصل صورتحال سے بہت کم لوگ آگاہ ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے، سوائے میرے اور چند لوگوں کے۔ ایرانی شدت سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی کی قیادت واضح نہیں، ہمیں مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو یقین سے نہیں معلوم کہ اصل لیڈر کون ہیں۔
جنگ کے حوالے سے سوال پر امریکی صدر نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمیں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے، لیکن شاید پڑ بھی جائے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ اٹلی اور اسپین سے امریکی فوج کے ممکنہ انخلا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ 'شاید' ممکن ہے۔







