نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، جاری کشیدگی اور امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں حالیہ علاقائی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ خطے کو درپیش چیلنجز اور ممکنہ حل پر بھی غور کیا گیا۔ اس دوران فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں تحمل، برداشت اور مسلسل رابطہ ہی کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مختلف علاقائی تنازعات میں پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی اور تعمیری سفارتکاری کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مستقبل میں بھی امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
اس موقع پر محمد اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں ہم آہنگی اور استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ مسائل کا دیرپا حل صرف مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور یہی راستہ خطے کے عوام کے روشن مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نہ صرف کشیدگی میں کمی بلکہ علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے بھی سرگرم عمل ہے، اور اس سلسلے میں مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے،موجودہ صورتحال میں ذمہ دارانہ سفارتکاری اور مشترکہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے تنازع سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں اور اختلافات کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے رہے ہیں، جو کہ ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔







