اپنے سوشل اکاؤنٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی سیاسی یا علاقائی تنازع کا حل طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ نازک صورتحال میں سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسلام آباد کی مسلسل سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں بہتری آئی ہے اور بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا چاہیے جو اسے ایک بار پھر کسی بڑے تنازع میں دھکیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی پالیسیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بالواسطہ طور پر خلیجی ممالک کا ذکر کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات سب پر مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔
امریکی منصوبے پروجیکٹ فریڈم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مسائل کے حل کے بجائے تعطل پیدا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کو ’پروجیکٹ ڈیڈ لاک‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ اس سے مذاکراتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی جہاز یا فریڈم پراجیکٹ میں رکاوٹ ڈالی تو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے، ٹرمپ
یاد رہے کہ ایران کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی بدامنی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اگر پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں اسی طرح جاری رہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔







