امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور سویلین بحری جہازوں پر ٹول عائد کرنے کی تجویز عالمی سمندری قوانین اور آزادانہ تجارت کے اصولوں کے خلاف ہے، دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان اسی اہم بحری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی نئی پابندی یا اضافی فیس بین الاقوامی منڈیوں میں بے چینی پیدا کرسکتی ہے۔

مائیک والٹز نے بتایا کہ بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں مبینہ حملے بند کرے اور جہازوں پر مجوزہ ٹول کے نفاذ سے باز رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے اپنے نئے نظام پر عملدرآمد کیا تو عالمی شپنگ انڈسٹری، تیل کی ترسیل اور توانائی کی عالمی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکی سفیر کے مطابق بین الاقوامی برادری خطے میں کشیدگی کے بجائے آزاد اور محفوظ بحری راستوں کی حامی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ارسال کردہ خط میں مجوزہ قرارداد کو ’’یک طرفہ اور حقائق کے منافی‘‘ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: دشمن میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہا ہے تاکہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے: قالیباف

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اور طاقت کا غیرقانونی استعمال ہے، تاہم قرارداد کے مسودے میں ان عوامل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ  آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی بحری راستے سے گزرتا ہے، اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بحری تجارت میں رکاوٹوں کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔