وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس معاملے پر ایک خط ملنے کی توقع ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
دوسری جانب سفارتی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے، جہاں دونوں فریق ثالثوں کی مدد سے ایک ممکنہ 14 نکاتی مفاہمتی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق زیر غور دستاویز ایک ابتدائی فریم ورک ہے جس میں ایک ماہ پر مشتمل مذاکراتی عمل کے بنیادی اصول طے کیے جا رہے ہیں۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی اور افزودہ یورینیئم سے متعلق انتظامی طریقہ کار جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان، قطر اور بعض خلیجی ممالک پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
تاہم بعض اہم نکات اب بھی اختلاف کا باعث ہیں، جن میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی کا معاملہ بھی شامل ہے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی حل کی گنجائش بھی کھلی رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی حکام بھی مجوزہ فریم ورک کا جائزہ لے رہے ہیں اور اندرونی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہا، تاہم اس میں کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی منڈیوں پر اس کے اثرات کے باعث ان سفارتی کوششوں کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اصل پیش رفت اب بھی فریقین کے سیاسی فیصلوں پر منحصر ہے۔






