کمپنی کے مطابق 31 مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران آرامکو نے 32 ارب 50 کروڑ ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا، جو ماہرین کے اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس عرصے میں کمپنی کی مجموعی آمدن تقریباً 7 فیصد اضافے کے ساتھ 115 ارب 49 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے آرامکو نے اپنی مشرق سے مغرب جانے والی خام تیل پائپ لائن کے ذریعے یومیہ 70 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل مکمل استعداد کے ساتھ جاری رکھی۔
آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے کہا کہ مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن نے عالمی توانائی بحران کے اثرات کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، قابلِ اعتماد توانائی سپلائی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
کمپنی کے مطابق اس پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل سعودی عرب کے مغربی ساحل پر قائم ریفائنریوں کو فراہم کیا جا سکتا ہے، جب کہ باقی 50 لاکھ بیرل برآمد کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگی صورتحال کے دوران سعودی عرب نے یومیہ 20 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کم کی، کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی متاثر ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: ترکیہ اسرائیل کو تیل کی فراہمی سے کیسے محروم کر سکتا ہے؟
آرامکو نے پہلی سہ ماہی کے لیے 21 ارب 90 کروڑ ڈالر کے بنیادی منافع کی تقسیم کا بھی اعلان کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.5 فیصد زیادہ ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی حکومت اب بھی آرامکو کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے اور حکومتی اخراجات و بجٹ خسارے پورے کرنے کے لیے کمپنی کے منافع پر انحصار کیا جاتا ہے۔







