وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایرانی کی مرکزی قیادت انتہائی غیر معقول تھی لیکن وہ اب جا چکی۔ دوسری سطح ان سے قدرے بہتر ہے جبکہ تیسری سطح کی قیادت میں سے کوئی بھی صدر بننا نہیں چاہتا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ پوچھتے ہیں کہ کون صدر بننا چاہے گا، لیکن کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی تجاویز پر تہران کے جواب کو کچرے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اس وقت انتہائی کمزور ہے۔
سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے سوال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اس وقت غیر یقینی حد تک کمزور ہے۔ انھوں نے جو کچرا بھیجا ہے، میں نے تو اس کو پورا پڑھا بھی نہیں کیونکہ میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا، اس وقت سب سے کمزور ہے۔
یہ (جنگ بندی) اس وقت لائف سپورٹ پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کا کوئی اپنا لائف سپورٹ پر ہو، اور ڈاکٹر آ کر آپ کو بتائے کہ ان کے بچنے کا محض ایک فیصد امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ثالثی کے ذریعے موصول ہونے والی ایرانی تازہ تجاویز ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘، صدر ٹرمپ
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا میرے پاس کوئی پلان ہے۔ بالکل ہے، میرے پاس سب بہترین پلان ہے۔ ایران کو عسکری اعتبار سے شکست ہو چکی ہے، بہت بری۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کچھ فوجی قوت باقی ہے جو شاید انھوں نے جنگ بندی کے دوران دوبارہ حاصل کی ہے۔لیکن ہم اسے ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں۔
انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو نہ اسرائیل رہے گا نہ مشرقِ وسطیٰ۔ اور اس کے بعد شاید ان کا اگلا نشانہ یورپ ہو۔
وہ (ایرانی) سوچتے ہیں کہ میں اس سے تھک جاؤں گا یا میں بور ہو جاؤں گا، یا مجھ پر کچھ دباؤ پڑے گا، لیکن کوئی دباؤ نہیں ہے، کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہم مکمل فتح حاصل کرنے جا رہے ہیں۔







