ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف سفارتکاری، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور برابری کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں قطر اور آذربائیجان کی قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں خطے کی مجموعی صورتحال، ایران امریکا کشیدگی اور امن کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کے لیے ورلڈ اربن فورم کے موقع پر نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جبکہ باہمی تعلقات کے فروغ اور علاقائی استحکام پر بھی گفتگو ہوئی۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ سے متعلق خصوصی نمائندے سے اہم ملاقات کی جس میں خطے میں جاری کشیدگی، سفارتی رابطوں اور امن کے فروغ سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی ماحول بہتر بنانے کیلئے مثبت کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 8 مئی کو اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے کی صورتحال، بحری سلامتی اور پاکستانی و ایرانی بحری عملے کی واپسی کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

 11 مئی کو سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں بھی ایران امریکا تنازع، خلیجی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کے سفارتی کردار اور امن کوششوں کو سراہا۔

مزید پڑھیں: افغانستان انڈیا کی پراکسی بن چکا، دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، خواجہ آصف

اسی طرح 12 مئی کو آسٹریا کے وزیر خارجہ کے ساتھ رابطے میں بھی خطے کی کشیدہ صورتحال اور ممکنہ سفارتی حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق عالمی برادری پاکستان کی امن کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان بھی اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ایران امریکا رابطوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کیلئے سفارتکاری کے تسلسل اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر اعلیٰ سطحی تبادلوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

طاہر اندرابی نے بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے پاکستان پر ثالثی کے کردار میں اضافے سے متعلق تاثر درست نہیں، پاکستان اپنا سفارتی کردار آزاد اور متوازن پالیسی کے تحت ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس کی بعض رپورٹس کو بھی گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی طیاروں کی موجودگی یا عسکری نوعیت کی سرگرمیوں سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔

مزید پڑھیں: معرکۂ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا، وزیراعظم

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق متعلقہ پروازیں سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت کیلئے استعمال ہوئیں اور ان کا کسی فوجی سرگرمی یا ہنگامی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

دوسری جانب دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں دہشتگرد حملے کے معاملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کیے جانے کی بھی تصدیق کی اور بتایا  کہ پاکستان نے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغان حکام سے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس سے منسلک تھے، اس لیے پاکستان نے افغان حکومت سے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنی قومی سلامتی، خطے کے امن اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا جبکہ سفارتی سطح پر بھی امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کیلئے متحرک کردار ادا کرتا رہے گا۔